اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، بحرین کی تاریخ اقتدار کے زور پر حکمرانی کرنے والے نظام اور اس معاشرے کے درمیان مسلسل کشمکش کی داستان ہے جس نے اپنی شناخت اسلامی تعلیمات سے وابستہ رکھی ہے۔ تاہم، گزشتہ برسوں میں مذہبی شخصیات کو منظر سے ہٹانے اور عدالتی نظام پر غلبہ حاصل کرنے کے ذریعے معاشرے کی شناخت بدلنے کی منظم کوششیں اس کشمکش میں ایک اہم موڑ بن چکی ہیں۔
بحرین کی حکومت کی جانب سے مذہبی ڈھانچے کو کمزور کرنے، شیعوں کو دبانے اور انہیں گرفتار کرنے کی منظم پالیسی ظاہر کرتی ہے کہ حکمرانی کا انداز روایتی آمریت سے آگے بڑھ کر منظم طور پر لوگوں کو معاشرتی زندگی سے بے دخل کرنے کی صورت اختیار کر رہا ہے۔ بنیادی سوال یہ ہے کہ بحرین کے عوام کی تاریخی مزاحمت کے مقابلے میں یہ دباؤ آخر کب تک برقرار رہ سکے گا؟
اسی تناظر میں بحرین کی 14 فروری تحریک کے سیاسی دفتر کے سربراہ ابراہیم العرادی نے ابنا سے گفتگو کرتے ہوئے مذہبی شخصیات کو سلامتی کے لیے خطرہ قرار دینے کی پالیسی پر بات کی۔
انہوں نے کہا کہ ڈھائی صدی سے بھی زیادہ عرصہ پہلے آل خلیفہ قبیلے کے بحرین پر قبضے کے بعد سے حکمرانوں کی حکمت عملی مکمل بالادستی قائم کرنے اور اقتدار و اثر و رسوخ کے تمام ذرائع پر اجارہ داری کے گرد گھومتی رہی ہے۔ اس مقصد کے حصول کے لیے بحرین کے اصل باشندوں کو تابع بنانے کی خاطر سخت جبر اور چالاکی پر مبنی پالیسیوں، دونوں سے کام لیا گیا ہے۔
مذہبی علما، بحرینی معاشرے کو تابع بنانے کی پالیسی میں سب سے بڑی رکاوٹ
ابراہیم العرادی نے کہا کہ مذہبی علما ہمیشہ بحرین کے عوام کو حکمرانوں کے تابع بنانے اور ان کے ساتھ اپنی مرضی کے مطابق چلنے پر آمادہ کرنے کے منصوبوں کی سب سے بڑی رکاوٹ اور مضبوط ترین دیوار رہے ہیں۔ اسی لیے حکام نے اس معاشرتی طبقے کو ختم کرنے اور اس کے کردار کو مٹانے کا ایک تاریخی اور تزویراتی فیصلہ کیا۔
ان کے مطابق، اس خفیہ منصوبے کا انکشاف 2006 میں ’’البندر رپورٹ‘‘ سے متعلق دستاویزات میں ہوا تھا۔ ان دستاویزات سے مذہبی ڈھانچے کو کمزور کرنے، مذہبی رہنماؤں اور باایمان شخصیات کو نشانہ بنانے کے ایک منظم سرکاری منصوبے کا پتا چلا۔
اس سوال کے جواب میں کہ کیا بحرین کا عدالتی نظام قانون کی حکمرانی سے دور ہوکر آزادیٔ اظہار کو مکمل طور پر سلامتی کا معاملہ بنا رہا ہے، العرادی نے کہا کہ بحرین میں مذہبی تعلیمات کا سرچشمہ اعتدال، کشادہ دلی اور رواداری جیسی اقدار ہیں، جو قرآن کریم اور رسول اکرم حضرت محمد مصطفیٰ (ص) اور اہل بیت (ع) کی روایات و احادیث سے حاصل ہوتی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ آل خلیفہ کے عدالتی نظام کی جانب سے اصلاحی خطبات اور تعلیمی تقاریر کو جرم کے ثبوت کے طور پر پیش کرنا مذہبی مقام کو مسخ کرنے اور ایسی فرضی مشکلات کھڑی کرنے کی ایک ناکام اور قابلِ افسوس کوشش ہے جن کی کوئی منطقی یا قانونی بنیاد نہیں۔
ان کے بقول، یہ پالیسی پیغمبروں کے وارثوں کے خلاف حکومت کی بے قابو کوششوں، دینی شعور کے سرچشموں کو خشک کرنے اور مسخ شدہ و جبری سیکولرازم مسلط کرنے کے منصوبے کو بے نقاب کرتی ہے۔ یہ کوششیں اتاترک اور شاہ کے دور کی فرسودہ آمرانہ پالیسیوں کو دہرانے کے مترادف ہیں۔
جابرانہ پالیسیوں کے مقابلے میں بحرین کی مذہبی شناخت کا استحکام
اس سوال پر کہ مذہبی اداروں اور اوقاف کو نشانہ بنانے سے مذہب کو سرکاری کنٹرول میں لانے اور مذہبی سرگرمیوں سے ان کی معاشرتی و تنقیدی حیثیت ختم کرنے کی پالیسی کہاں تک کامیاب ہوسکتی ہے، العرادی نے کہا کہ بحرین کے عوام کے شعور میں رچی بسی مذہبی شناخت کوئی نئی چیز نہیں، بلکہ اس کی جڑیں اسلام کے آغاز اور رسول اکرم حضرت محمد مصطفیٰ (ص) کے زمانے تک پھیلی ہوئی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ اعتقادی اور روحانی شناخت صدیوں سے قائم ہے اور اسے مٹانے یا اپنے اندر ضم کرنے کی تمام کوششوں کے مقابلے میں مزاحمت کرتی آئی ہے۔
ان کے مطابق، جبر، خودسری اور ریاستی دہشت گردی کے ہتھکنڈے نہ تو مذہبی اعمال کا خاتمہ کرسکتے ہیں اور نہ ہی عوام کے شعور میں راسخ ایمان کو کمزور کرسکتے ہیں۔ مذہبی شعائر اور عبادات کو معاشرے کا اجتماعی شعور تحفظ فراہم کرتا ہے اور کوئی ادارہ انہیں مٹانے کی طاقت نہیں رکھتا۔
عدالتی انصاف کے اصولوں کی پامالی اور فیصلوں کی ساکھ کا بحران
بحرین میں منصفانہ عدالتی کارروائی کے اصولوں کے خاتمے اور عوامی رائے میں عدالتی فیصلوں کی ساکھ ختم ہونے کے بارے میں العرادی نے کہا کہ بحرین کا عدالتی نظام مکمل طور پر ایک سیاسی آلہ بن چکا ہے، جس میں خودمختاری اور غیر جانب داری کے بنیادی تقاضے موجود نہیں۔ ان کے مطابق، یہ نظام حکمران حکومت کے براہِ راست احکامات اور اس کے طے کردہ مقاصد کے تحت کام کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ وہاں جج انصاف کے محافظ نہیں بلکہ حکمرانوں کے تابع ملازمین ہیں، جنہیں حکمرانوں کی سیاسی خواہشات پوری کرنے کے بدلے حقوق اور مراعات دی جاتی ہیں۔
العرادی نے مزید کہا کہ شیعہ مذہبی علما کو نشانہ بنانے والے نمائشی اور من گھڑت مقدمات اس بات کا ناقابلِ تردید ثبوت ہیں کہ عدالتی نظام حکمرانوں کی غلامی میں دھنس چکا ہے اور ظلم کے ایک ایسے آلے میں تبدیل ہوگیا ہے جو خلاف ورزیوں کو قانونی جواز فراہم کرتا اور سیاسی مخالفین کو منظر سے ہٹانے کے منصوبوں کی خدمت کرتا ہے۔
بحرین میں مذہبی علما کے خلاف منظم جبر کے نتائج سے متعلق انتباہ
گفتگو کے اختتام پر اس سوال کے جواب میں کہ کیا وسیع پیمانے پر گرفتاریوں کے پیش نظر مذہبی علما کے خلاف منظم جبر مستقبل میں اعتدال پسند مذہبی حلقوں کو زیادہ سخت گیر مخالف قوتوں میں تبدیل کرنے کا بنیادی سبب نہیں بن سکتا، ابراہیم العرادی نے کہا کہ تاریخ کا ایک ناگزیر اصول ہے کہ ہر عمل کے مقابلے میں اسی قوت کا ردعمل پیدا ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکام کا بڑھتا ہوا تکبر اور شیعہ معاشرے، اس کی مذہبی شخصیات اور مقدس مقامات پر مسلسل عائد کی جانے والی گھٹن زدہ پابندیاں ملک کو ایک ناگزیر دھماکے کے دہانے پر لے جا رہی ہیں۔
العرادی نے خبردار کیا کہ معاشرے کو حاشیے پر دھکیلنے کی پالیسی کے تباہ کن نتائج برآمد ہوں گے، جن پر قابو پانا حکام کے لیے ممکن نہیں رہے گا۔ خطے میں تیزی سے رونما ہونے والی تبدیلیوں اور بڑے واقعات کے پیش نظر اس ممکنہ دھماکے کی چنگاری بحرین کی سرحدوں تک محدود نہیں رہے گی، بلکہ اس کی لپٹیں پورے خطے میں پھیل کر حالات کا پورا نقشہ بدل سکتی ہیں۔
آپ کا تبصرہ